اردو اصنافِ نثر کا مکمل تعارف اور تفصیل

اردو اصنافِ نثر کا مکمل تعارف اور تفصیل



 اردو اصنافِ نثر کا مکمل تعارف اور تفصیل


ناول 


ناول اطالوی زبان کے لفظ ناولا سے نکلا ہے ۔ ناولا کے معنی ہے نیا ۔ لغت کے اعتبار سے ناول کے معانی نادر اور نئی بات کے ہیں ۔ لیکن صنف ادب میں اس کی تعریف بنیادی زندگی کے حقائق بیان کرتا ہے ۔ ناول کی اگر جامع تعریف کی جائے تو وہ کچھ یوں ہو گی کہ " ناول ایک نثری قصہ ہے جس میں پوری ایک زندگی بیان کی جاتی ہے ” ۔ ناول کے عناصر ترکیبی میں کہانی ، پلاٹ ، کردار مکائے ، زمان و مکاں ، اسلوب ، نکتہ نظر اور موضوع و غیرہ شامل ہیں ۔

 افسانہ کسی فرد کے زندگی کو ظاہر کرتا ہے ۔


 ناول کے اجزاء 

کہانی 

پلاٹ

 زبان و بیان

 منظر نگاری


 ناولٹ 


ناولٹ مختصر یا چھوٹا ناول ، معتدل طوالت پر مبنی ناول ۔ نثر میں ایسی تحریر جو ناول سے چھوٹی اور افسانے سے بڑی ہوتی ہے ۔ اسے کچھوٹا ناول یا طویل افسانہ بھی کہا جاتا ہے ۔


 افسانہ


 افسانہ ادب کی نثری صنف ہے ۔ لغت کے اعتبار سے افسانہ جھوٹی کہانی کو کہتے ہیں لیکن او بی اصطلاح میں یہ لوک کہانی کی ہی ایک قسم ہے ۔ ناول زندگی کا نل اور افسانہ زندگی کا ایک جز پیش کرتا ہے ۔ جبکہ ناول اور افسانے میں طوالت کا فرق بھی ہے اور وحدت تاثر کا بھی ۔ افسانہ کو کہانی بھی کہا گیا ہے ۔ لیکن موجودہ ادبی تناظر میں افسانے سے مقصود مختصر افسانہ ہے جو کم سے کم آدھے گھنٹے میں یا آدھی نشست میں پڑھا جاتا ہے ۔ افسانہ دراصل ایک ایسا قصہ ہے جس میں کسی ایک واقعہ یا زندگی کے کسی اہم پہلو کو اختصارا اور و کارپی سے تحریر کیا جاتا ہے ۔ اس کی ترتیب میں اجزائے ترکیبی کا بہت زیادہ عمل دخل رہتا ہے اور ان میں سے وحدت تاثر کو زیادہ اہمیت حاصل ہے ۔ 


افسانچہ 


انسانی تجربے کو نثری صورت میں کم سے کم لفظوں میں بیان کر نا افسانچہ کہلاتا ہے ۔ اور آزاد ( Stream Of Consciousness ) ادب میں یہ صنف انگریزی ادبیات کے تتبع سے متعارف ہوئی ، جس میں شعور کی رو کی عمل داری ہوتی ہے ۔ شاعری میں مختصر نظم اور نثر میں افسانچہ ایک ہی ( Free Association of Thought ) فکری تلازمے نوع کی چیز میں ہیں لیکن اردوادب میں مقبول نہیں ہو سکیں ۔


 کالم 


کالم نگاری صحافت سے جڑا ایک پیشہ ہے ، کالم نگار کا کام اخبارات و جرائد میں مضامین لکھنا ہو تا ہے ، ان مضامین میں مضمون نویس اپنے مشاہدات و نظریات کی روشنی میں مختلف موضوعات پر مضامین لکھتا ہے جو مختلف اخبارات و جرائد میں چھپتے ہیں ۔


 

 نثر


نثر کے لغوی معنی بکھری ہوئی شے کے ہیں وہ تحریر جو منظوم نہ ہو بلکہ عام گفتگو کی طرح لکھی جاۓ اسے نثر کہتے ہیں ۔ 


خاکہ


خاکہ کے لغوی معنی ڈھانچہ بنانا یا مسودہ تیار کرنا ہیں ۔ جبکہ ادبی نقطہ نظر سے خاکہ شخصیت کی ہو بہو عکاسی کا نام ہے ، اس خاکہ نگاری میں نہ صرف شخصیت کی ظامر کی تصویر کشی کی جاتی ہے بلکہ باطن کا بھی احاطہ کیا جاتا ہے ۔ خاکہ نگاری ایک ایسی صنف ہے جس میں کسی شخص کے حقیقی خد و خال قارئین کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں ۔ خاکہ نگاری میں ایک جیتی جاگتی حقیقی شخصیت کی دلکش اور دلچسپ پیراۓ میں تصویر کشی کی جاتی ہے ۔ خاکہ نگار واقعات و مشاہدات کے ساتھ ساتھ اپنے تاثرات و قیاسات کو بھی شامل کرتا ہے ۔ ایک کامیاب خاکہ نگار کی نگاہ اس مقام کو پالیتی ہے جس مقام تک عام خاکہ نویسوں کی نگاہ نہیں پہنچتی ۔


انشائیہ


 انشائیہ کے لغوی معنی " عبارت " کے ہیں ۔ انشائیہ نثری ادب کی وہ صنف ہے جو مضمون کی مانند لگتی ہے مگر مضمون سے الگ انداز رکھتی ہے ۔ انشائیہ میں انشائیہ نگار آزادانہ طور پر اپنی تحریر پیش کرتا ہے ، جس میں اس کی شخصیت کا پہلو نظر آتا ہے ۔ کسی خاص نتیجہ کے بغیر بات کو ختم کرتا ہے ، یعنی نتیجہ کو قاری پر چھوڑ دیتا ہے ۔ مشہور انشاء پروازوں میں محمد حسین آزاد ، سر سید احمد خان ، ابو الکلام آزاد ، مرزا فرحت اللہ بیگ ، پطرس بخاری ، خواجہ حسن نظامی ، رشید احمد صدیقی ، ابن انشاء و غیر و مشہور ہیں ۔ 


داستان / قصه 


داستان افسانوی ادب کی قدیم ترین صنف ہے ۔ادب میں نثری قصوں کی وہ قسم جس کی اساس زیادہ تر خیال آرائی پر ہوتی ہے ، کر دار عموماً مثالی ہوتے ہیں ، زبان میں تکلف سے کام لیا جاتا ہے ۔ اکثر داستانون کا مآخذ عربی ، فارسی یا سنسکرت قصے ہیں ، بعض طبع زاد بھی ہیں ۔


ڈراما


 ڈرامایسی کہانی یا قصہ ہے جو اداکاری کے لیے لکھا جائے یا اداکاری کے ذریعے پیش کیا جائے ۔ یہ اصطلاح یونانی لفظ قدیم یونانی سے اخذ ہوئی جس کے معانی حرکت عمل یا فعل کے ہیں ۔


فلم


 اس لفظ کا ماخذ ایک یونانی فعل ( قدیم یونانی ہے جس کے معانی کرنا ' یا ' دکھانے فلم بھی کہا جاتا ہے ، ساکت تصاویر کا ایسا سلسلہ ہوتا ہے ( motion picture ) یا متحرک تصویر ( movie ) ، جسے مووی ( film ) جو پردے ( اسکرین ) پر یوں دکھایا جاتا ہے کہ اس پر متحرک ہونے کا دھوکا ہوتا ہے ۔ مختلف اشیا کو تسلسل کے ساتھ تیز رفتاری سے دکھاۓ جانے کے باعث یہ بھر کی دھو کا ناظرین کو احساس دلاتا ہے کہ دوسلسل متحرک اشیاء کچھ رہے ہیں ۔ ایک موشن پکچر کیمرے کے ذریعے اصل مناظر کی عکس بندی کر کے فلم تخلیق کی جاتی ہے ۔ موشن پکچرے کیمرے کے ذریعے اصل مناظر کی عکس بندی ؛ تصاویر یا روایتی اینیمیشن تلنیکیمیں استعمال کرتے ہوۓ چوٹی شبیہوں کی عکس بندی ؛ سی بی آئی اور کمپیوٹر اینیمیشن کے ذریعے ؛ یا ان میں سے ، استعمال کرتے ہوۓ فلم تخلیق کی جاتی ہے ۔ لفظ " سینما ( visual effects ) بعض یا تمام تر تکنیکیوں اور دیگر بصری اثرات عمومما فلم اور فلم سازی یا فن فلم سازی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ۔ سینما کی رائج تعریف کے مطابق یہ خیالات ، کہانیاں ، ( cinema ) احساسات ، جذبات ، خوب صورتی یا ماحول کے ابلاغ کے تجربات کی نقل پیش کرنے کا فن ہے ۔


 پیروڈی 


پیروڈی لفظ پیروڈیا سے نکلا ہے جس کے معنی میں جوابی نغمہ ۔ ایک ادبی طرز تخلیق جس میں کسی نظم یا نثر کی نقل کر کے مزاح کا رنگ پیدا کیا جاتا ہے ۔ اردو ادب میں اردو کی آخری کتاب جوا بن انشا کی تصنیف ہے پیروڈی کی بہترین مثال ہے ۔ 


سفر نامہ


 سفر نامہ ادب کی ایک صنف ہے جس میں بیرونی ادب ، تلاش بینی ادب ، مہم جوئیانہ ادب یا قدرتی لکھائی اور رہنما کتب اور دوسرے ملکوں کے دورے شامل ہیں ۔

سفر عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی مسافت کرنا کے ہیں ۔ اس کو لکھنے کا مقصد قارئین کو اپنے تجربات و واقعات سے آگہی دینا ، عام انسان کے اندر دیار غیر کے بارے میں جاننے کی خواہش پیدا کر نا اور سفر کی داستان سنانا ۔ 


سوانح حیات 


کسی شخصیت کے متعلق اس کی زندگی کے بارے میں تمام روداد کو یکجا کر کے مرتب کر نا اس کی سوانح حیات کہلاتی ہے ۔ سوانح حیات کسی کے متعلق مرتب کی جاسکتی ہے جس میں پسندیدہ شخصیات بھی ہو سکتی ہیں ۔ ان میں مذہبی اور روحانی شخصیات کو زیادہ اہمیت حاصل ہے ۔


 آپ بیتی


 خود نوشت یا آپ بیتی ایک نثری ادبی صنف ہے مصنف کی اپنی سوانح عمری یا پھر آپ بیتی ہو تی ہے ۔ خود نوشت کا محور مصنف کی شخصیت ہوتی ہے ۔


 تذکرہ نگاری


 متذکرہ ایک عربی لفظ ہے جس کا معنی یاد کے آتے ہیں ۔ تذکرو ایک ادبی صنف بھی ہے ۔ جدید عربی زبان میں متذ کرہ کے معنی ٹکٹ کے


 تمثیل نگاری


 تمثیل سے ایسا انداز تحریر مراد ہے جس میں تشبیہات و استعارات سے کام لیا جاتا ہے ۔ اس میں موضوع پر براہ راست بحث کرنے کی بجائے اسے تخیلی اور تصوراتی کرداروں ، روز مرہ کے مسائل حیات اور انسان کے عقائد و تجربات سے ہوتا ہے ۔ عموماً اسے کسی خاص روحانی یا اخلاقی مقصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ۔ جانسن کے لفظوں میں تمثیل سے مراد ایسا انداز بیان ہے جس میں اکثر غیر ذی روح اور غیر ذی عتقل اشیاء کو جاندار بنا کر پیش کیا جاتا ہے ۔ اور ان باتوں یا افسانوں کی مدد سے انسان کے اخلاق و جذ بات کا تنزکیہ و اصلاح کا سامان فراہم کیا


 رپورتاژ 


ر پور تاژ صحافتی صنف ہے اسے بطور ادبی صنف صرف اردوادب میں برتا گیا ۔ لاطینی اور فرانسیسی زبانوں کے خاندان سے ہے جو انگریزی میں رپورٹ کے ہم معنی ہے ۔ رپورٹ سے مراد تو سیدھی سادی تصویر پیش کرنے کے ہیں ۔ لیکن اگر اس رپورٹ میں ادبی ( Report ) اسلوب ، تخیل کی آمیزش اور معروضی حقائق کے ساتھ ساتھ باطنی لمس بھی عطا کیا جائے تو یہ صحافت سے الگ ہو کر ادب میں شامل ہو جاتی ہے ۔ چنانچہ اولی اصطلاح میں رپورتاژ ایک ایسی چلتی پھرتی تصویر کشی ہے جس میں خود مصنف کی ذات ، اسلوب ، قوت متخیلہ ، تخلیقی توانائی اور معروضی صداقت موجود ہوتی ہے ۔ اکثر سفر ناموں کو بھی رپورتاژ کے زمرے میں رکھا جاتا ہے لیکن سفر نامے کے لیے سفر کی ضرورت ہوتی ہے لیکن رپورتاژ میں ایسا ضروری نہیں ۔ مصنف چشم تخیل کے ذریعے ہی رپورتاژ تخلیق کر سکتا ہے ۔ 


تعریف


 تعریف علم منطق کے موضوعات میں ایک اہم موضوع تعریف کا موضوع ہے ۔ تعریف لینی ذہن میں موجود معلومات کے ذریعے ایک مجہول اور غیر معلوم مفہوم تک رسائی حاصل کر نا ۔

تعریف کے فوائد : تعریف منطق کے اہم موضوعات میں سے ایک ہے ، کسی بھی کلمہ کی تعریف اس کلمہ کے مفہوم کو دوسرے کلمہ کے مفہوم و معنی کے ساتھ خلط ہونے سے بچاتی ہے ۔ اگر کلمات اور الفاظ کی تعریفات واضح اور روشن نہ ہوں تو انسانی ذہن انتشار اور حیرانی کا شکار رہتا ہے ۔ تعریف کو منطق کی اصطلاح میں حد بھی کہتے ہیں چونکہ الفاظ کی تعریف سے ان کی حد بندی ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے ان کا مفہوم ایک دوسرے سے جدار ہتا ہے ۔


 طنز و مزاح 


ارو د ادب میں طنز و مزاح کو عموماً یکساں معنوں میں لیا اور ایک ساتھ استعمال کیا جاتا ہے ، حالا نکہ طنز اور مزاح میں فرق ہے ۔ دونوں کی اپنی اپنی حدود ہیں ، لیکن اس کے باوجوداکثر ایک دوسرے کے متوازی بھی چل رہے ہوتے ہیں اور بعض اوقات تو ان کی سرحد میں ایک دوسرے سے ایسے ملی ہوتی ہیں کہ ان کو الگ کر ناد شوار ہو جاتا ہے ۔ طنر سے مراد طعنہ ، ٹھٹھہ ، تمسخر یارمز کے ساتھ بات کر نا ہے ، جب کہ مزاح سے خوش طبعی ، مذاق یا ظرافت مراد لیا جاتا ہے ۔ عام طور پر " طر " اور " مزاح " کے الفاظ کو ملا کر بطور ایک مرکب کے استعمال کیا جاتا ہے ، مگر یہ دو مختلف المعانی الفاظ ہیں ۔ مزاح کے لفظی معنی ہنسی مذاق ، جب کہ طنز کے معنی طعنہ یا چھیٹر کے ہیں ۔ ایسی تحاریر جو آپ کو ہنسنے پر مجبور کر دیں اور اس تحریر میں تنقید کو مزاح کا جامہ پہنا دیا جائے لیکن اس کے باوجود بھی قاری بننے پر مجبور ہو جائے طنز و مزاح کہلاتی ہیں ۔ طنز و مزاح کی ایک مقبول صنف لطیفہ ہے ۔


 مکتوب 


مکتوب نگاری ادب کی قدیم صنف ہے مگر یہ ادبی شان اور مقام و مرتبہ کی حامل کب ہوتی ہے ۔ اس بارے میں ڈاکٹر سید عبد اللہ کا خیال ہے : " خطوط نگاری خود ادب نہیں مگر جب اس کو خاص ماحول خاص مزاج ، خاص استعداد ایک خاص گھڑی اور خاص ساعت میسر آجائے تو یہ ادب بن سکتی ہے ۔ یعنی کسی شخص چاہے وہ کوئی بھی ہو ، یا محبوب ہو ، اس سے بات کر نا ، جبکہ وہ سامنے موجود نہ ہو ، مکتوب نگاری کہلاتا -- 


تقریظ


" ڈاکٹر سید عبداللہ کے خیال میں کسی ادب پارے کی تعریف و تحسین ، خیالی انداز سے کرنا تقریظ کہلاتا ہے ۔ تاریخی آثار کے اعتبار سے زمانہ جاہلیت کے عرب شاعر " بازار عکاظ میں جمع ہو کر اپنا اپنا قصیدہ سناتے اور صدر محفل کسی ایک قصیدے کو دوسروں پر برتری دے کر اس کی خوبیوں اور محاسن پر ایک بلیغ تقریر کرتا تھا ، اسے تقریظ کہتے تھے ۔ اردو شاعری میں شعرا اپنے دواوین ( دیوان کی جمع ) پر تقاریر لکھواتے رہے ، لیکن اب اس کا رواج نہیں رہا ۔ اب اس کی جگہ فلیپ ، و پانے یا پیش لفظ نے لے لی ہے ۔ 


مقالہ


مقالہ کے لغوی معنی ہیں " بات " یا " لو " یعنی " جو کچھ کہا جائے ۔ اصطلاح میں کسی خاص موضوع پر علمی و تحقیقی انداز میں تحریری اظہار خیال کو مقالہ کہیں گے ۔

مضمون اور مقالہ در حقیقت ایک صنف کے دو روپ ہیں ۔ دونوں کے درمیان فرق صرف یہ ہے کہ کہ مضمون قدرے مختصر ہوتا ہے ۔ اس کا انداز تاثراتی اور مفہوم سادہ ہوتا ہے ، جب کہ مقالہ نسبتا طو میں اور عالمانہ ہوتا ہے ۔ مقالہ میں مضمون کی نسبت زیادہ گہرائی ہوتی ہے اور وہ زیادہ ٹھوس ہوتا ہے ۔ 


مقدمہ 


مقدمہ نثر کی اصطلاح ہے ، اسے صنف نثر کہنا چاہیے ۔ اس سے مراد ابتدائیہ ، دیباچہ یا تقری ہے ۔ کسی تصنیف یا تالیف اور اس کے مصنف و مولف کے تعارف کے طور پر کتاب کے شروع میں جو ابتدائی تحریر ہوتی ہے ، اسے مقدمہ کہتے مقد مہ صاحب کتاب خود بھی لکھ سکتا ہے اور بعض اوقات اس علم کے ماہر سے لکھوا کر شامل کتاب کیا جاتا ہے ۔ مقدمے کی روایت اتنی ہی پرانی ہے جتنی کتاب نویسی کی ۔ ایک اعتبار سے مقدمہ ، توصیفی و تعارفی تنقید ہوتی ہے اور اس کا مطلب یہ ہوتا سے متعارف ہو جاۓ ۔ Corvetents اور Objective ہے کہ قاری اصل کتاب پڑھنے سے پہلے کتاب کے 


دیباچہ 


دیباچہ کسی کتاب یا ادبی کام کے ابتدا میں لکھے ہوئے الفاظ کو کہا جاتا ہے ، دیباچہ کتاب کا مصنف لکھتا ہے ، اگر کتاب کے بارے میں کوئی اور مضمون لکھے تو اسے پیش لفظ کہا جاتا ہے پیش لفظ اکثر دیباچے سے پہلے موجود ہوتا ہے ۔ دیباچے میں اکثر ان کا ذکر ہوتا ہے جن کی مدد سے کتاب لکھنا ممکن ہوا ۔ دیباچہ میں عموما یہ بیاں کیا جاتا ہے کہ یہ کتاب کیسے ممکن بنا اور کتاب لکھنے کا خیال کیسے آیا ۔ اس کے علاوہ ان کا شکر یہ ادا کیا جاتا ہے جن کی وجہ سے کتاب مکمل ہوئی ۔ دیباچے کے نیچے اکثر مصنف کی دستخط ، مقام اور تاریخ درج ہوتے ہیں لیکن یہ ضروری نہیں البتہ پیش لفظ کے نیچے دستخط ہو نا ضروری ہے ۔

Post a Comment

To be published, comments must be reviewed by the administrator *

Previous Post Next Post
Post ADS 1
Post ADS 1