ہمارے بارے میں

فتح مکہ کا پسِ منظر ، واقعات اور نتائج||فتح مکہ کی اہمیت

فتح مکہ کا پسِ منظر ، واقعات اور نتائج


 
فتح مکہ کا پسِ منظر ، واقعات اور نتائج


فتح مکہ ( رمضان 8 ہجری )


مکہ پر فوج کشی کے اسباب


خانہ کعبہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی یادگار ہے۔ یہ انہوں نے ایک خدا کی عبادت کے لیے بنوایا تھا مگر اس وقت یہاں تین سو ساٹھ بت رکھے ہوئے تھے اسلام نے اسی مکان کو مسلمانوں کا قبلہ قرار دیا تھا اس لئے ضروری تھا کہ مکہ پر قبضہ کرکے خانہ کعبہ کو بتوں سے پاک کیا جائے ۔

صدیوں سے مکہ عرب کا سیاسی، تجارتی اور مذہبی مرکز چلا رہا تھا قریش کی سب اہمیت مکہ ہی کے سبب تھی اب ضرورت تھی کہ مکہ پر مسلمانوں کا قبضہ ہو اور رسول خدا کا آبائی شہر اور عرب کا مرکز ان کے زیر اقتدار رہے ۔مہاجرین مکہ کی بھی دلی خواہش تھی کہ وہ اپنے وطن میں کامیاب واپس جائیں ۔

* حدیبیہ کی رو سے مسلمانوں اور قریش مکہ میں دس سال کے لئے صلح ہصلحو چکی تھی قبائل عرب میں سے بنو خزاعہ رسول خدا کے اور بنو بکر قریش کے حلیف تھے ان دونوں میں پرانی دشمنی چلی آرہی تھی ۔بنو بکر نے ان جھگڑوں کو تلوار کی مدد سے نمٹانے کے لیے بن خزاعہ سے جنگ شروع کر دی قریش نے نہ صرف ہتھیار فراہم کئے بلکہ بعض سردار لڑائی میں شریک ہوئے اس لیے بنو خزاعہ کو شکست ہوئی ان لوگوں نے حرم میں پناہ لی تو وہاں بھی قتل کیا گیا ۔حالانکہ وہاں خون ریزی منع ہے چنانچہ بنو خزاعہ کے نمائندے دربار رسول میں پہنچے اور تمام معاملہ سنایا  یہ سن کر حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت رنج ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے پاس قاصد بھیجے اور انہیں لکھا کہ ذیل کی شرطوں میں سے کوئی ایک منظور کر لیں۔ 


بنو خزاعہ کے مقتولوں کا خون بہا ادا کریں 

بنو بکر کی حمایت سے ہاتھ اٹھا لیں 

اعلان کر دیں کہ حدیبیہ کا معاہدہ ٹوٹ گیا ہے 


قریش نے تیسری شرط مان لی مگر بعد میں اپنی غلطی پر خوفزدہ ہوئے اور معاہدے کی تجدید کے لیے ابوسفیان کو دربار رسول میں بھیجا مگر حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کر دیا ۔


اسلامی لشکر کی روانگی 


رسول خدا نے ابو سفیان کی روانگی کے بعد جنگ کی تیاری شروع کر دی اور 10 رمضان المبارک 8 ہجری کو اپنے دس ہزار سپاہیوں کے ساتھ مکہ کی طرف روانہ ہوئے ۔فوج پر مہم کا مقصد ظاہر نہ کیا اور نامعلوم اور غیر معروف راستوں سے گزرتے ہوئے یکدم نواع مکہ میں مقام ظہران پر پڑاؤ کیا ۔قریش کو رات کے وقت اسلامی فوج کے پڑاو کے چولہوں کی روشنی سے پتہ چلا کہ مخالف لشکران پر چڑھ آیا ہے اس پر ابوسفیان اور کچھ دوسرے لوگ تحقیق کے لیے باہر نکلے ۔

ابو سفیان اسلامی لشکر کے آس پاس گھوم رہا تھا کہ حضرت عباس کی نظر اس پر پڑھی اور اسے پکڑ کر حضور کی خدمت میں لے گئے حضرت عمر نے دیکھا تو بے قابوہوگئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے قتل کی اجازت چاہی ۔مگر آپ نے حضرت عباس کی سفارش پر اسے معاف کر دیا اب حضرت عباس کے کہنے پر ابو سفیان نے اسلام قبول کر لیا ۔

لشکر اسلام کو مکہ کی طرف پیش قدمی کا حکم دینے سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لشکر قریش میں اعلان کر دیا کہ جو شخص ہتھیار ڈال دے گا یا ابو سفیان کے گھر میں پناہ لے گا یا اپنے گھر کا دروازہ بند کر لے گا یا خانہ کعبہ میں داخل ہو جائے گا اسے معاف کر دیا جائے گا ۔

یہ عام معافی کا اعلان تھا جس کا بہت اچھا اثر پڑا ویسے بھی مسلمانوں کے اتنے بڑے لشکر کو دیکھ کر خوفزدہ ہو گئے تھے ۔اس لیے مسلمانوں نے بلامقابلہ مکہ فتح کرلیا اور قریش کی مزاحمت کو ہمیشہ کے لئے ختم کر دیا مکہ پہنچ کر سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ کو بتوں سے پاک کیا اس وقت آپ کی زبان پر یہ آیات تھی جس کا ترجمعہ کچھ یوں ہے کہ۔ 


حق آگیا اور باطل نابود ہوگیا بےشک باطل مٹ جانے والی چیز ہے ۔


خطبہ فتح 


 " اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں ہے وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور اس نے اپنا وعدہ سچا کیا اور اپنے بندے کی مدد کی اور تمام جماعتوں کو تنہا چھوڑ دیا ۔خبردار ہر قسم کا مطالبہ خواہ وہ خون کا ہو یا مال کا میرے پاؤں کے نیچے ہے البتہ بیت اللہ کی تولیت اور حاجیوں کو پانی پلانے کے مناصب پہلے کی طرح ہیں "


 " اے گروہ قریش آج کے دن اللہ نے تم سے جاہلیت کا غرور چھین لیا اور آبا و اجداد کے بل پر بڑھائی حرام کر دی ہے کل بنی نو انسان آدم کی نسل سے ہیں اور آدم مٹی سے بنے تھے "


پھر یہ آیت تلاوت فرمائی جس کا ترجمہ یوں ہے 


 " لوگو ہم نے تمہیں مرد اور عورت سے پیدا کیا اور تمہاری قومیں اور قبیلے بنائے تاکہ ایک دوسرے کی شناخت کرو بے شک اللہ تعالی کے نزدیک تم میں سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے بلاشبہ اللہ سب کچھ جاننے والا اور سب خبر رکھنے والا ہے "


خطبہ کے بعد آپ نے اہل مکہ سے فرمایا تم جانتے ہو میں تم سے کیا سلوک کرنے والا ہوں قریش کو اپنے مظالم کا احساس تھا لیکن حضور کے رحم و کرم اور اور درگزر سے بھی خوب واقف تھے اس لئے سب نے کہا کہ آپ شریف بھائی اور شریف زادہ ہیں یعنی آپ ہم سے وہی سلوک کریں گے جن کی شریفوں سے توقع ہوتی ہے اس پر آپ نے فرمایا 


 " آج تم پر کوئی الزام مواخذہ نہیں جاؤ تم سب آزاد ہو "


آپ نے اس زمانے میں عرب کے انسانی سوز جنگی دستور کے برعکس مفتوحین کی جان و مال اور عزت کو محفوظ رکھا اور ان سب کو معاف کر دیا آپ کے اس رویے نے دنیا کو نیا جنگی دستور دیا ۔آپ نے ان پر ایک احسان یہ بھی کیا کہ مہاجرین کی املاک جو قریش کے قبضے میں تھی انہی کے پاس رہنے دیں ۔

فتح مکہ سے آپ کا اصل مقصد اہل مکہ کے دلوں کی تسغیر تھا اس لئے آپ اہل مکہ کو تحریک اسلام میں رسمی طور پر شریک کرنے کے لیے مقام صفا پر تشریف لے گئے اور ایک بلند جگہ پر لوگوں سے بیعت لینے کا سلسلہ شروع کیا ۔مردوں کے بعد عورتوں سے بیعت لی اس سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ اسلام میں عورت بھی مرد کی طرح عقیدے اور نظریے کے معاملے میں آزاد ہے ۔بہرحال لوگ جوق در جوق تحریک اسلام میں شامل ہو رہے تھے اور جو لوگ مکہ چھوڑ کر بھاگ گئے تھے آپ نے انہیں بھی امان دے دی ۔اس وقت بھی آپ نے کسی شخص کو اسلام قبول کرنے پر مجبور نہیں کیا چنانچہ جن لوگوں نے اسلام قبول نہیں کیا انہیں بھی جان و مال کی پوری آزادی دی گئی ۔پھر مکہ کانظم و نسق درست کرنے کے بعد معاذ بن جبل کو یہاں کا نگران بنایا اور حضور مدینہ تشریف لے گئے ۔


 فتح مکہ کے نتائج اور اہمیت 


*فتح مکہ کا اہم ترین نتیجہ اللہ تعالی کے گھر کا بتوں سے پاک ہونا تھا اگرچہ ان بتوں میں کچھ انبیاء کے بت بھی تھے لیکن اسلام میں کسی بھی بزرگ بت کی پوجا جائز نہیں ہے ۔فتح مکہ نے اس کعبہ کو بتوں سے پاک کردیا جس کی طرف سب مسلمان منہ  کرکے نماز پڑھتے ہیں ۔

*مکہ صدیوں سے عرب کا تجارتی، مذہبی اور سیاسی مرکز چلا آ رہا تھا اس پر قبضہ اسلام کی بڑی کامیابی تھی ۔اس کے بعد قبائل عرب میں قریش کی بجائے مسلمانوں کو عرب کی سب سے بڑی سیاسی اور مذہبی طاقت سمجھنے لگے ۔

*فتح مکہ کے بعد قریش اور بہت سے دیگر قبائل نے اسلام قبول کیا اور اسلام کے جھنڈے تلے جمع ہوگئے اس طرح عرب جو قبائلی نظام کے تحت زندگی گزارتے تھے حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت میں ایک قوم بن گئے ۔


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے