ہمارے بارے میں

داستان نویسی کا ارتقا| |اصولِ داستان نویسی| |اردو کی مشہور داستانیں

داستان نویسی کا ارتقا


 داستان نویسی کا ارتقا| |اصولِ داستان نویسی| |اردو کی مشہور داستانیں


کہنے کی چیز کو کہانی کہتے ہیں کہانی کا مترادف لفظ قصہ یا حکایت ہے اور داستان قصے کہانی کی قدیم ترین قسم ہے ۔کسی زمانے میں قصہ خوانی یا داستان گوئی بضابطہ فن ہوا کرتا تھا جو عربی اور فارسی سے اردو میں منتقل ہوا ۔برعظیم میں اس کا آغاز دکنی دور سے ہوا جو بعد ازاں برعظیم کے طول و عرض میں پھیل گیا بڑے بڑے شہروں میں داستان سننے سنانے کے لیے باقاعدہ جگہیں اور وقت مقرر ہوا کرتے تھے جہاں لوگ کشاں کشاں آتے اور بڑے انہماک سے داستان سنتے تھے کچھ قدیم شہروں خصوصا حیدرآباد دکن، دلی، لکھنؤ اور لاہور وغیرہ میں ایسی جگہوں کی نشاندہی آج بھی باآسانی کی جا سکتی ہے ۔انشاءاللہ خان انشاء کا یہ شعر :


سنایا رات کو قصہ جو ہیر رانجھے کا 

تو اہل درد کو پنجابیوں نے لوٹ لیا 


اسی ماحول کی عکاسی کرتا ہے اور پشاور کا قصہ خوانی بازار آج بھی اسی زمانے کی یادگار ہے ۔

بغداد کی عباسیہ خاندان کے مشہور بادشاہ ہارون رشید کی ملکہ زبیدہ کو داستان سننے کا بڑا شوق تھا اور اس کے دربار میں داستان گووں کو بڑی قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا ۔الف لیلیٰ قصے کی ایک مشہور کتاب کا نام ہے اس کتاب کی کل داستانیں سمرقند کی شہزادی نے اپنی بہن سے جس کا نام دنیا تھا ایک ہزار ایک راتوں میں بیان کی تھیں ۔بعد میں یہ کتاب اتنی مقبول ہوئی کہ اس کا انگریزی، فرانسیسی، عربی فارسی وغیرہ بہت سی زبانوں میں ترجمہ ہو گیا ۔

روایت ہے کہ خواجہ نظام الدین اولیاء ایک دفعہ بیمار پڑ گئے بیماری نے طول کھینچا تو ان کے مرید خاص امیر خسرو نے اپنے مرشد کے پاؤں دبانے میں ایک دلچسپ داستان قصہ چہار درویش فارسی میں سنانی شروع کی ۔یہ داستان کئی دنوں کے بعد ان کی صحت یابی پر ختم ہوئی تو حضرت نظام الدین اولیاء نے دعا کی کہ جس کسی بیمار کو یہ قصہ سنایا جائے گا وہ ضرور صحتیاب ہو گا ۔اس قصے کو میر امن دہلوی نے باغ و بہار کے تاریخی نام سے ڈاکٹر جان گلکرسٹ کے ایما سے فورٹ ولیم کالج کلکتہ کے پلیٹ فارم سے 1802 میں اردو میں لکھا ۔اردو نثر کا آغاز بھی فورٹ ولیم کالج کلکتہ سے ہوتا ہے جہاں میر امن کے علاوہ حیدر بخش حیدری نے آرائش محفل اور طوطا کہانی خلیل خان اشک نے داستان امیر حمزہ اور مظہر علی ولا نےہفت گلشن 1801 میں لکھیں ۔ان کے علاوہ بھی بہت سی داستانیں لکھی گئی مگر ان سب داستانوں میں اپنے منفرد انداز بیان اور سلیس اور برجستہ زبان کےسبب باغ و بہار کو سب سے زیادہ مقبولیت کا درجہ حاصل ہے ۔باغ و بہار میں دہلی کی معاشرت بیان ہوئی ہے اس کے مقابلے میں رجب علی بیگ سرور لکھنوی نے فسانہ عجائب  1825 میں لکھی جو لکھنؤ کی تہذیب و ثقافت کی آئینہ دار ہے ۔

اردو میں داستان نویسی کا دور تقریباً ایک صدی تک قائم رہا قدیم داستانیں اپنی گوناگوں خوبیوں کی بدولت نہ صرف انتہائی دلچسپ ہوا کرتی تھی بلکہ یہ اخلاقی اقدار اور زبان کے اعتبار سے بھی خوب صورت مرقعے تھے مگر پھر بقول ثاقب لکھنوی یہ ہوا کہ :


بڑے شوق سے سن رہا تھا زمانہ

 ہمیں سو گئے داستاں کہتے کہتے 


انگریزی زبان و ادب کے فروغ میں ہمیں داستان سے بیگانہ کر دیا اور ہمیں ایک نئی صنف نثر سے متعارف کرایا جس سے ناول کہتے ہیں ۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے