بانگِ درا کا مکمل تعارف اور تفصیل

بانگِ درا کا مکمل تعارف اور تفصیل

 


بانگِ درا کا تعارف اور تفصیل


دوست احباب اور عوام کے پیم اصرار پر علامہ اقبال نے اپنا پہلا اردو مجموعہ کلام مرتب کرکے 1924ء میں شائع کیا ۔

اس مجموعے میں ان کے اُس وقت تک کے اردو کلام کا انتخاب شامل تھا ۔" بانگ درا کے کلام کو انتخاب کا نام اس لیے دیا گیا ہے کہ اس میں اپنا بہت سارا ابتدائی کلام انہوں نے سرے سے شامل ہی نہیں کیا ۔سیالکوٹ اور لاہور کے مشاعروں کے لئے لکھی ہوئی سیکڑوں غزلیں انہوں بالکل خارج کر دیں۔ رسائل میں چھپی ہوئی نظموں اور غزلوں میں بہت زیادہ تبدیلیاں کییں۔  بعض نظمیں بالکل رد کردیں اور بعض طویل نظموں کا ایک آدھ بند ہی باقی رکھا ۔

بہت سی نظموں اور غزلوں میں سے متعدد اشعار خارج کر دئیے۔بعض اشعار میں لفظی تبدیلیاں کیں جن سے بعض اوقات ان کی معنویت بدل گئی ۔یہ ردو بدل اتنے وسیع پیمانے پر کیا گیا کہ بہت سے ایسے اشعار بھی بانگ درا میں شامل نہ ہو سکے جو بے حد مشہور ہو چکے تھے مثلا طویل نظم "فریاد امت "کا صرف ایک بند "دل "کے عنوان سے بانگ درا میں شامل کیا اور وہ بندحذف کر دیا جس میں یہ مشہور شعر شامل تھا ۔


واعظ تنگ نظر نے مجھے کافر جانا 

اور کافر یہ سمجھتا ہے مسلمان ہوں میں 


غرض علامہ اقبال نے اس وسیع پیمانے پر ردوبدل کیا جسے کوئی غیر معمولی صاحب بصیرت ہی روا رکھ سکتا ہے ورنہ عموماً شعرا کو اپنا ہر شعر پسند ہوتا ہے ۔

بانگ درا کی ترتیب یوں ہے کہ تین ادوار میں تقسیم کیا گیا ہے پہلا دور 1905ء تک کے کلام پر محیط ہے دوسرا دور 1905 سے 1908 تک اور تیسرا دور 1908ء سے کتاب کی اشاعت تک پھیلا ہوا ہے ہر دور میں پہلے نظمیں دی گئی ہیں اور آخر میں غزلیں بعض نظموں پر سال تخلیق بھی درج ہے مگر اکثر نظموں کے لیے یہ اہتمام نہیں کیا گیا پوری کتاب میں زمانی ترتیب ملحوظ رکھی گئی ہے یعنی پہلے لکھی جانے والی نظم پہلے اور بعد میں لکھی جانے والی نظم بعد میں کتاب کے آخر میں ظریفانہ کے عنوان سے کچھ اشعار ،قطعات وغیرہ درج کیے گئے ہیں جو اکبر الہ آبادی کی پیروی میں علامہ اقبال نے لکھے تھے ان اشعار پر سال تحریر درج نہیں مگر قیاس یہ ہے کہ تمام اشعار 1910ء سے 1914ء تک لکھے گئے ہیں۔

 بانگ درا کے شروع میں سرعبدالقادر نے ایک مبسوط دیباچہ لکھا ہے عبدالقادر علامہ اقبال کے دوستوں میں شامل تھے اور خود بھی دنیا میں اہم مقام رکھتے ہیں ان کا یہ دیباچہ کسی بھی اردو شعری مجموعے پر  لکھے ہوئے دیباچے سے زیادہ مشہور ہوا ہے اور بعد میں اقبالیات کے اکثر نقادوں نے اس میں سے اپنی تنقیدی کتابوں میں حوالے نقل کئے ہیں بانگ درا کے تینوں ادوار کی شعری موضوعات کی رنگارنگی اور اسالیب بیان کے تناع کی وجہ سے پوری اردو شاعری میں منفرد حیثیت رکھتی ہے ۔اگرچہ تین ادوار متعدد خصوصیات کی وجہ سے ایک دوسرے سے الگ الگ ہیں مگر تینوں میں نقطہ نظر کی ایک یکسانیت بھی موجود ہے۔

Post a Comment

To be published, comments must be reviewed by the administrator *

Previous Post Next Post
Post ADS 1
Post ADS 1